غلام مزمل عطاؔ اشرفی کی منتخب غزلیں
کبھی دل پر اگر گزری محبت کی فغاں کیوں ہو
جو خود اپنا نہیں ٹھہرا، اسی کا امتحاں کیوں ہو
نہ میں بدلا، نہ تو بدلا، بدل بیٹھا فقط موسم
تو پھر رشتوں کے مر جانے پہ اتنی داستاں کیوں ہو
میں اپنے زخم سینے میں چھپا سکتا ہوں ہنس کر بھی
مرے چہرے پہ ہر لمحہ غموں کا ترجماں کیوں ہو
اگر معراجِ الفت خود فنا کی منزلوں میں ہے
تو پھر ہر عاشقِ صادق کو خوفِ امتحاں کیوں ہو
چراغِ دل جلا رکھا ہے آندھی کے مقابل بھی
اندھیروں کی حکومت میں کوئی خوفِ زیاں کیوں ہو
تری محفل سے اٹھ آئے تو پھر یہ سوچتے ہیں ہم
جہاں اپنا نہیں کوئی، وہاں آخر مکاں کیوں ہو
نہ منصب کی طلب دل میں، نہ شہرت کی ہوس باقی
پھر ایسے شخص کا ہر وقت ذکرِ آسماں کیوں ہو
عطاؔ جب دل ہی دریا ہو، تو قطرے کا بھرم کیسا
سمندر کی نگاہوں میں کوئی قطرہ نہاں کیوں ہو
مرے ہر خواب سے واقف ہو، پھر بھی بدگماں کیوں ہو
چرا کر نیند تم میری ستمگر بے زباں کیوں ہو
وفا بازار کی شے تو نہیں جو تول کر بکھرے
محبت بک گئی جس دن تو پھر نام و نشاں کیوں ہو
وہ اپنے ظرف سے بڑھ کر اگر رشتہ نبھائے نہ
مرے احساس کی قیمت فقط اشکِ رواں کیوں ہو
اگر اخلاص زندہ ہو تعلق کی عمارت میں
در و دیوار کے ہوتے ہوئے بھی بدگماں کیوں ہو
ہماری خامشی سمجھے نہ جب اہلِ محبت بھی
لبوں پر پھر کسی شکوے کی آخر داستاں کیوں ہو
وہی آنکھیں مری منزل، وہی چہرہ مری دنیا
پھر اس کے بعد دل کو آرزوئے گلستاں کیوں ہو
نگاہِ یار نے جب دل کے سب پردے اٹھا ڈالے
لبوں پر پھر عطاؔ احساس کی کوئی زباں کیوں ہو

Post a Comment